ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی جے پی والے فون ٹیپنگ میں ماہرہیں:ڈی کے سریش

بی جے پی والے فون ٹیپنگ میں ماہرہیں:ڈی کے سریش

Mon, 24 Aug 2020 11:19:44    S.O. News Service

بنگلورو،24؍اگست(ایس او نیوز) دیورجیون ہلی (ڈی جے ہلی) اورکاڈگنڈن ہلی (کے جی ہلی)میں ہوئے تشدداورفون ٹیپنگ کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔کاگرنگریس قائدین کی جانب سے اٹھایاگیا فون ٹیپنگ معاملہ کوئی الزام نہیں ہے وہ حقیقت ہے۔یہ باتیں کانگریس رکن پارلیمان ڈی کے سریش نے کہی۔

سداشیونگرمیں واقع اپنے بھائی ڈی کے شیوکمارکی رہائش گاہ کے باہراخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ بی جے پی والے ڈی جے ہلی معاملہ پرپردہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہاں کے زمینی حقائق کچھ اورہیں۔ بروہت بنگلو رمہانگرپالیکے (بی بی ایم پی)انتخابات قریب آرہے ہیں۔ اس لیے وہاں کے بی جے پی لیڈرتشددمعاملہ میں سیاسی کھیل شروع کئے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس پردباؤبنایاجارہاہے۔انہوں نے بی جے پی کوسخت تنقیدکانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ بی جے پی لاشوں پرسیاست کرنے والی سیاسی پارٹی ہے۔اب ڈی جے ہلی معاملہ کوبی بی ایم پی انتخابات کے لیے استعمال کررہی ہے۔

سریش نے مزید کہا کہ ڈی جے ہلی معاملہ میں انٹلیجنس محکمہ بری طرح ناکام ہواہے۔حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لیے کے جی ہلی تشدد کا معاملہ کانگریس پرڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔ حکومت کویہ اعتراف کرناہوگا کہ کے جی ہلی تشدد کے لیے انٹلیجنس کی ناکامی ہی اہم وجہ ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ گزشتہ 15دنوں سے بھائی ڈی کے شیوکمارکے موبائل کال میں رکاوٹیں درآتی رہی ہیں۔اس بارے میں چنداحباب نے مشورہ دیا کہ موبائل کالنگ میں ہورہی رکاو ٹ کی شکایت کی جائے۔اس لیے شیوکمارنے شکایت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فون ٹیپنگ معاملہ میں بی جے پی والے ماہرہیں، دوسروں پرالزام عائدکرکے اپنے آپ کوبچانے میں بھی بی جے پی ماہرہے۔انہوں نے کہاکہ ایک قومی پارٹی کے ریاستی صدرکی فون ٹیپنگ کی شکایت کونظراندازکرنا ممکن نہیں ہے،شخصی آزادی کا اغواکرنے کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔وزارت داخلہ ایک ذمہ دارعہدہ ہوتاہے، اس عہدے پررہنے والوں کونہایت ذمہ داری سے بات کرنی ہوگی۔ریاستی حکومت کواس پرپہلی فرصت میں توجہ دینی ہوگی ورنہ اس معاملہ میں مداخلت کے لیے میں مرکزی حکومت کو مکتوب روانہ کروں گا۔


Share: